Skip to main content
THE ALWAT ONLINE
  • Home
  • About
  • NEWS
    • ENGLISH
    • PASHTO
    • URDU
  • Contact

مادری زبانوں کی فروغ میں رسائل اور آن لائن فورمز کا کردار

25 Feb, 2020, No comments

وقارعلی شاہ دریاب

کسی بھی زباں کو تقویت بخشنے کیلئے ادبی رسائل اور آن لائن فورمز کا وجود بہت اہم کردار ادا کرتا ہے، سوشل میڈیا اور پرائیویٹ چینلز کی یلغار سے پہلے اخبارات اور رسائل کو ایک منفرد مقام حاصل تھا. سوشل میڈیا کے آنے کے بعد کچھ رسائل یا تو شائع ہونا بند ہوگئے یا وہ ڈیجیٹلائز کئے گئے.

چونکہ میں پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کے ساتھ وابسطہ ہوں تو صحافتی سفر کے ساتھ ساتھ ادبی میدان میں پشتو زبان کی فروغ کے لئے اپنے حصے کا کام سرانجام دے رہا ہوں۔
آج سے تقریبا چار سال پہلے کچھ دوستوں کے ساتھ مل کر "آواز" کے نام سے ایک پشتو رسالے کا اشاعت کرنے لگے، اس میں پشتو ادب کی تاریخ، پشتونوں کی تاریخ، ، ادبی تقریبات کی رپورٹس، شعروشاعری اور مختلف عنوانات پر مضامین چھپتے تھے۔
یہ سلسلہ دو سال تک جاری رہا ہم اپنی مڈ آپ کے تحت لگے رہیں لگے رہیں لیکن مالی بحران کی وجہ سے رسالے کی اشاعت بند کرنے پر مجبور ہوگئے کیونکہ پانچ سو میں سے ۱۰۰ شمارے بمشکل بک جاتے تھے اور باقی کے ۴۰۰ شمارے تحائف کی شکل میں بانٹھ کر مفت چلے جاتے تھے۔ یہ ایک الگ بات ہے لیکن میرے نزدیک سوشل میڈیا سے پہلے اخبارات اور رسائل کا کردار اسلئے اہم ہے کہ انٹرنٹ کی سہولت سے محروم لوگ بھی رسائل سے مستفید ہوتے رہتے ہیں۔
میری تجربے کے مطابق ہماری میگزین "آواز" ان خواتین اور بزرگوں تک بھی پہنچ جاتی تھی جن کا سوشل میڈیا سے  دوردور تک کوئی تعلق نہیں تھا۔
یہ وہ لوگ تھے جو ہر وقت ہمارے ساتھ رابطے میں رہے ہماری کاوشوں کو سراہتے رہے اور رسالے کی دوبارہ اشاعت کا اصرار بھی کرتے رہے لیکن ایک سال تک اشاعت کا سلسلہ ٹوٹا رہا۔
دور حاضر میں ایک خاصی بڑی تعداد ادبی رسائل کی ہے جن میں ماہنامے، دوماہی، سہہ ماہی، ششماہی اور سالنامے شامل ہیں۔ یہ تمام رسائل کسی نہ کسی طریقے سے عوام تک پہنچ جاتی ہے۔ یہ بات بھی سمجھنا چاہئے کہ رسائل کی پابندی یا غیر پابندی کوئی خاص اہمیت نہیں رکھتی بہرحال ان میں شائع شدہ مواد کی اہمیت برقرار رہتی ہے بلکہ وہ تاریخ کا حصہ بن جاتا ہے۔
ہمارے لئے تشویش کی بات یہ ہے کہ خیبرپختون خوا کے تعلیمی نصاب میں پشتو زبان کو جگہ نہیں مل رہی جس کے نتیجے میں زیادہ تر لوگ پشتو لکھنا پڑھنا نہیں جانتے۔
میں بڑے بڑے پشتون  ڈاکٹرز اور پروفیسرز کو جانتا ہوں جن کومیں تعلیمی نصا ب کے متاثرین کہتا ہوں اس لئے کہتا ہوں کیونکہ وہ پشتو میں ایک جملہ بھی تحریر نہیں کرپاتے تو وہ پشتو کا رسالہ خریدے گا کیوں اور پڑھےگا کیسے؟
بہرحال سب مشکلات کے باوجود ایک سال کے وقفے کے بعد ہم نے "آواز" میگزین کو نوے غگ یعنی "نئی آواز" کے نام سے دوبارہ چھپنے کا فیصلہ کیا اور ابھی تک اسکے پانچ شمارے چھپ چکے ہیں۔
دوسری ضروری بات میں یہ کرنا چاھوں گا کہ ہمارے میڈیا کے کیمرے ان لوگوں کی طرف بہت جلد مڑ جاتی ہے جو وائرل ہو جاتے ہیں اگر خدانخواستہ حریم شاہ کو بخار ہو جاتی ہے تو پورا کا پورا میڈہا اسی بخار کی لپیٹ آجاتا ہے۔
لیکن میری کوشش ہے کہ میں ان لوگوں کو سامنے لاوں جن کو نذر انداز کیا گیا ہو مطلب یہ کہ جن کی کتابیں بھی چھپی ہو اور زبان کی فروغ میں اپنا کردار ادا کرتے ہیں لیکن  میڈیا تک انکی رسائی نہیں ہوتی تو انشاءاللہ میں نے ان لوگوں تک پہنچنا ہے اور سامنے لانا ہے۔
آن لائن فورمزکی بات کی جائے تو سوشل میڈیا کے کردار سے کون واقف نہیں۔بچہ ہو یا بوڑھا، مرد ہو یا خواتین سوشل میڈیا ہر کسی کی زندگی کا ایک لازم جز بن چکا ہے۔ دیگر چیزوں کی طرح سوشل میڈیا کے بھی مثبت اور منفی اثرات ہیں جو سراسر اس کے استعمال پر منحصر ہیں۔
ادب کے فروغ کے لئے سوشل میڈیا دور حاضر کی اہم ضرورت ہے۔ اسی ضرورت کو مد نظر رکھتے ہوئے سوشل میڈیا پر کئی ادبی فورمز کا قیام عمل میں آیا جنہوں نے  ادب کو فروغ دینے میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔
ساتھ ہی ان  فورمز کے ذریعے نوجوان نسل میں ذوقِ مطالعہ پیدا ہوا ہے، انہوں نے سینئر شعراء کرام  اور ادیبوں کی کتب کا مطالعہ شروع کیا ہے اور باقاعدہ طور پر لکھنے سے قبل سیکھنے کی طرف متوجہ ہوئے ہیں جوکہ ایک خوش آئیند بات ہے
اس پلیٹ فارم سے میں یہی پیغام دوں گا کہ سوشل میڈیا فورمز فیس بک، ٹوَئیٹر، انسٹاگرام، اور یوٹیوب وغیرہ ہماری سہولت کے لئے ہیں لھذا انکا مثبت استعمال کیجئے اور اسکو اپنی قوم، ادب اور ثقافت کے فروغ کا ذریعہ بنایئیں۔ 


یونیورسٹی کینٹین ویٹر سے یونیورسٹی کے گریجویٹ ہونے تک کا سفر

5 Sep, 2019, No comments

وقارعلی شاہ_خصوصی رپورٹ

اگر لگن، محنت، حوصلہ اور ثابت قدمی ہو تو معذوری اورغربت آگے بڑھنے کاراستہ نہیں روک سکتا، پروفیسر ڈاکٹر گل زمان

عبیدالرّحمٰن سکنہ گل ڈھیری، اکوڑہ خٹک نے گورنمنٹ ہائی سکول شیدو نوشہرہ سے میٹرک کرنے کے بعدسٹی پولی ٹیکنک انسٹیٹیوٹ سے الیکٹریکل میں ڈپلومہ حاصل کیا۔

یاد رہے منسوب کا تعلق ایک غریب گھرانےسے ہے والد کے گھٹنوں کی تکلیف کیوجہ سے ان کےذریعہ معاش کا خاص ذریعہ نہ تھا اور منسوب کوآنکھوں کی خاص بیماری تھی جس کیوجہ سے آٹھ اپریشن کروا چکا تھا۔ لیکن ان نامساعد حالات کے باوجود گھریلوں معاشی معاملات میں ہاتھ بٹھانا ان کی مجبوری تھی جسکی وجہ سے ان کا تعلیمی سلسلہ رک گیا اور آخر روزگار کی تلاش میں ملاکنڈ یونیورسٹی کے کینٹین آپہنچا اور ویٹرکی حیثیت سےکام کا آغاز کیا۔

 اسی اثناء یونیورسٹی کے انسان دوست اور مخلص اساتذہ نے منسوب کو نہ صرف تعلیمی سفرجاری رکھنے کا مشورہ دیا بلکہ معذور آفراد کی سیٹ پر داخلہ اور  HEC Need Base Scholarshipsسکالرشپ کے اصول میں مدد کی تاکہ منسوب اپنے تعلیمی سفر کو جاری رکھ سکے اور بالآخر سال 2015 میں  BS-ITسے دوبارہ تعلیمی سفرکا آغاز کیا۔ منسوب اپنے کھانے پینے کے اخراجات اور والد کے معاشی تعاون کیلئے کلاسس کے بعد 12 گھنٹے ویٹر کی ڈیوٹی کرتا تھا۔ منسوب نے دشوارگزار حالات کاجرات سے مقابلہ کیا اور ملاکنڈیونیورسٹی سے متعلقہ شعبے میں3.1 GPA لے کر سرخرو ہوئے۔ 

ملاکنڈ یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسرڈاکٹر گل زمان نے طالب علم عبیدالرّحمٰن کو خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ اگر لگن، محنت، حوصلہ اور ثابت قدمی ہو تو معذوری اورغربت آگے بڑھنے کاراستہ نہیں روک سکتا اور ملاکنڈ یونیورسٹی کی اولین ترجیح غریب اور معذور طلبا کی مدد کرنا اور ان کیلئے وسائل فراہم کرنا ہے، انھوں نے مذید کہا کہ Students Advancement Fund Endowment (SAFE))کے قیام کا مقصد ایسے ہی طلباء کی مالی مدد کرنا ہے تاکہ غربت اور معذوری کی وجہ سے کوئی تعلیم کے حصول سے محروم نہ رہ سکے اور ایسے طلباء کے خاندانوں کو مالی تعاون فراہم کرنے کیلئے ان طلباء کو روزگار فراہم کرنا ان کی اولیں ترجیح ہے۔

منشیات سے پاک معاشرہ, اس عزم کے ساتھ ہم آگے بڑھیں گے: سی ای او نیاز احمد

9 Aug, 2019, No comments
رپورٹ: وقارعلی شاہ


اسلام آباد:  سواں گارڈن اسلام آباد میں منشیات کی روک تھام کے لئے "اسلام آباد ری ھیب اینڈ کیئرنگ سنٹر" کا قیام وجود میں آیا ، سی 
ای او نیاز احمد نے بات کرتے ہوئے کہا کہ مجھے اس شعبے میں تقریباََ پندرہ سال کا تجربہ ہے اور ہم نشے کے عادی لوگوں کی نفسیات سمجھ سکتے ہیں۔
اس موقع پر انہوں نے بتایا کہ ہمارے ہاں پاکستان سمت دوسرے ملکوں سے بھی مریض علاج کے لئے بیجے جاتے ہیں، یہاں پر تربیت یافتہ ڈاکٹرز اور باقی سٹاف مریض کی دیکھ بال میں کوئی کسرنہیں چھوڑتا۔
ایم ڈی یاسر ذوالقرنین نے بتایا کہ میں لندن سے صرف اس لئے آیا ہوں تاکہ ہم اپنے ملک  کی خدمت کرسکوں اور معاشرے کو منشیات کی دلدل سے نکالنے میں اپنا کردار ادا کروں۔
ڈاکٹر لبناٰ ساجد، ڈاکٹر مریم بی بی، ڈاکٹر فرحان احمد اور ڈاکٹر سعد علی خان نے اس بات پر زور دیتے ہوِئے کہا کہ والدین کو چاہئے کہ اپنے بچوں کو وقت دیا کریں تاکہ ان کا رحجان منفی سرگرمیوں کی جانب راغب نا ہو۔
 انہوں نے بتایا کہ اس وقت پاکستان میں ۷۰ لاکھ افراد منشیات استعمال کر رہے ہیں، منشیات کا رواج ہمارے معاشرے کے نوجوانوں میں [جس میں خواتین کی کثیر تعداد شامل ہے] عام ہوتا جارہا ہے۔
علاقہ مکین اور عام لوگوں نے بھی "اسلام آباد ری ھیب اینڈ کیئرنگ سنٹر" کے قیام کو خوش آئیند قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ اس اقدام سے کافی حد تک ہمارا معاشرہ منشیات کی لعنت سے بچایا جا سکتا ہے۔

پولیس میں بھرتیوں، تبادلوں، تفتیش اور ترقیوں کے حوالے سے بیرونی دباؤ سے آزاد کیا جائے؛ ماہرین

8 Jul, 2019, No comments
by Waqar Ali Shah


اسلام آباد 08 جولائی 2019

 

وفاقی دارلحکومت میں پولیس آرڈر 2002 اپنی اصل حالت میں نافذہونا چایئے۔ حکومتی اور اپوزیشن اراکین اسمبلی کا متفقہ اعلامیہ

بلوچستان سے تعلق رکھنے والے سینیٹر میر کبیر شاہی، شنیلہ روتھ ممبر قومی اسمبلی، شگفتہ جمانی ، نصرت بانو سحر عباسی ممبر سندھ اسمبلی اورفیاض احمد خا ن طوروریٹائرڈآ ئی جینے  پاکستان فورم فور ڈیموکریٹک پولیسنگ کےزیر اہتمام منعقدکرد ہ  سیمینارمیں شرکت کی۔ پولیس اصلاحات کی ضرورت اور سیاستدانوں کے کردار کے حوالے سے منعقدہ  سیمینار کا بنیادی مقصد جمہوری اور صنفی طور پر حساس پولیس کے حصول کے لئے قا نونی ڈھانچے میں بہتری لانے کے لئے  پیش آنے والے مشکلات اور ان کے حل کے لئے ممکنہ طریقوں پر غور کرنا تھا۔ اس کے ساتھ ساتھ معاشرے میں پائے جانے والےصنفی تشدد  کی روک تھام اور پولیس اصلاحات کے لئے سیاستدانوں کے اہم کردار کے حوالے سے بات چیت کرنا تھا۔ اس کے علاوہ صنفی طور پر حساس پولیس کے حصول کے لئے انسانی حقوق کے لئے کام کرنے والی تنظیموں کے کردار پر بھی زور دیا گیا ۔

پولیس اصلاحات کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے سینیٹر میر کبیر احمد شاہی نے کہا کہ  پولیس پر کام کا دباو بہت زیادہ ہے  جس کی بڑی وجہ سیاستدانوں کے لئے وی آئی پی ڈیوٹی سرانجام دینا ہے ۔ان وی آئی پی ڈیوٹیز پر سالانہ دو ارب روپے خرچہ آتا ہے ۔ انہوں نے پولیس اصلاحات کے معاملے کو سینیٹ میں زیر بحث لانے کی یقین دہانی کرائی   تا کہ    158سالہ پرانے نوآبادیاتی نظام کےکالے قانون سے چھٹکارا حاصل کیا جائے۔ انہوں نےمعاشرے سے ناانصافی اورصنفی تشدد کے خاتمے کے لئے مکمل حمایت کی یقین دہانی کرائی۔

شنیلہ روتھ ممبر قومی اسمبلی نے مذہبی اقلیتوں کی نمائندگی کرتے ہوئے کہا کہ معاشرے  کے کمزور طبقات خاص طور پر خواتین ،بچے، خواجہ سرااور مزہبی اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کے لئے پولیس اصلاحات ناگزیرہیں۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پولیس میں تعیناتی  کے نظام کو سیاسی مداخلت سے پاک کرنا حکومت وقت کا نصب العین ہے ۔  انہوں نے  کہا کہ پولیس اصلاحات حکومت کی اولین ترجیحات میں سے ہے اس لئے جہاں تک ہو سکے گا وہ اس پیغام کو متعلقہ اداروں تک پہنچائیں گی۔

 

نصرت بانو سحر عباسی ممبر سندھ اسمبلی نے “Sindh (Repeal of the Police Act, 1861 and Revival of the Police Order, 2002) Amendment Bill 2019"

سےبات کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی مداخلت پولیس کے اچھے طریقے سے کام میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ انہوں نے صوبائی حکومت کے اس بل کے پاس کرانے کے عمل کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن پارٹیوں کو اس بل پر بحث کرنے کا موقعہ ہی نہیں دیا گیا۔   کےحوالے

فیاض احمد خا ن طوروریٹائرڈ آ ئی جی نے  پولیس اصلاحات کے حوالے پیش آنے والے مسائل پر بات کرتے ہوئے کہا کہ  اس وقت ضرورت اس امر کی ہے کہ  پورے ملک میں پولیس کے لئے یکساں قانون متعارف کرایا جائے ۔ پولیس بجٹ کا نوے فیصد سے زائد تنخواہوں کی مد میں خرچ ہو جاتا ہے جس کی وجہ سے پولیس اسٹیشن تک بہت کم بجٹ پہنچتا ہے ۔ پولیس آرڈر 2002 ایک وفاقی قانون ہے اور آئین کی رو سے صوبے  اس سے متصادم کوئی نیا قانون نہیں بنا سکتے۔ انہوں نے وفاقی دارلحکومت میں پولیس اصلاحات کے لیے  سول سوسایٹی، میڈیا ، پولیس اور سیاستدانوں کے باہمی تعاون پر زور دیا۔ سپریم کورٹ کے حکم سے بننے والی پولیس اصلاحات کمیٹی نے گراں قدر خدمات سرانجام دی ہیں ۔ 
پاکستان فورم فور ڈیموکریٹک پولیسنگ (PFDP) سماجی حقوق کے لئے کام کرنے والے اداروں، خواجہ سرا کمیونٹی، مذہبی اقلیتوں ، میڈیا اور تعلیمی اداروں کے نما ئندوں پر مشتمل پولیس ریفارمزکے لئے بنایا گیاایک نیٹ ورک  ہے  جو کہ پولیس اصلاحات کے لئے کام کررہا ہے۔ اس وقت پاکستان فورم فور ڈیموکریٹک پولیسنگ سندھ،  پنجاب، خیبر پختونخواہ، وفاقی دارالحکومت کے علاوہ بلوچستان میں بھی کام کر رہاہے۔ 
 
 
 
 

سول سوسائٹی کا چارٹر برائے  ر پولیس اصلاحات مندرجہ ذیل نکات پر مشتمل ہے:

پولیس اسٹیشن کو بااختیار بنایا جائے۔ پولیس اسٹیشن کو بااختیار بنانے کے لئے ضروری ہے کہ پولیس اسٹیشن کے مالی اور انسانی وسائل میں اضافہ کیا جائے۔ اس کے علاوہ پولیس میں بھرتیوں، تبادلوں، تفتیش اور ترقیوں کے حوالے سے بیرونی دباؤ سے آزاد کیا جائے۔ پولیس میں سیاسی مداخلت کاخا تمہ کیا جائے۔ پولیس میں اندرونی اور بیرونی احتساب کے عمل کوپبلک سیفٹی کمیشن برائے عوامی تحفظ اور شکایات کمیشن کے ذریعے موئژ بنایا جائے۔ تفتیشی عمل کے معیار اور بجٹ کو بڑھایا جائے۔ بچوں،خواتین، معزور افراد، مذہبی اقلیتوں اور معاشرے کے کمزور طبقات کی ضروریات کو خصوصی توجہ دی جائے۔ پولیس اور عوام کے درمیان فاصلوں کو کم کرنے کے لئے بھی اقدامات کئے جائیں۔  

حکومتی ترجمان  نے وفاقی دارلحکومت میں نئے پولیس قانون کو متعارف کرانے کے حوالے سے پیش آنے والے مسائل اور ان کے سدباب کے لئے لائحہ عمل پر حاضرین کو آگاہ  کیا۔اس حوالے سے مزید بات کرتے ہوئےممبر قومی اسمبلی شگفتہ جمانی  نے اپنے تعاون کا یقین دلایا۔ انہوں نے کہا کہ پولیس کے لئے مختص بجٹ انتہائی قلیل ہے لہذا اس میں اضافہ وقت کی اہم ضرورت ہے۔ خواجہ سرا کمیونٹی کو یقین دہانی کرائی کہ ان کے تحفط کے لئے پاس ہونے والے قانون سے متعلق ان کے تحفظات کو انسانی حقوق کی وزارت تک پہنچائیں گی۔ 
مزید بات کرتے ہوئے انہوں نےکہا کہ خواتین ،بچوں، خواجہ سرااور مزہبی اقلیتوں کے کے خلاف ہونے والے تشدد کےبڑھتے ہوئے واقعات کی روک تھام کے لئے پولیس اصلاحات ناگزیر ہیں۔  ہم حکومت سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لئے پو لیس اصلاحات کو یقینی بنائیں ۔پاکستان فورم فور ڈیموکریٹک پولیسنگ کے نما ئندوں نے حکومتی ترجمان کے سامنے سول سوسائٹی کا چارٹر برائے  ر پولیس اصلاحات پیش کیااور اس بات پر زور دیا کہ وہ پولیس اصلاحات کے حوالے سے اپنے منشور پر عمل در آمد کرتے ہوئے وفاقی دارلحکومت میں پولیس اصلاحات کے لئے اپنا کردار ادا کریں تاکہ صنفی تشدد کے واقعات کی روک تھام کے  لئے عملی اقدامات کئے جا سکیں۔صنفی تشدد کے خاتمے اور پولیس اصلاحات کے لئے کام کرنے والی غیر سرکاری تنظیم روزن کے سینئیر مینیجر سیدصفی پیرزادہ نے اس حوالے  سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی دارلحکومت میں پولیس  اب تک158 سال پرانےانگریزوں کے بنائےہوئے1861 ء کے  قانون کے تحت ہی اپنے فرائض سرانجام دے رہی ہےجبکہ دور حاضر کے تقاضوکےمدنظر  ر پولیس اصلاحات ناگزیر ہیں جیسا کہ دنیا بھر میں جمہوری بنیادوں پر استوار  کمیونٹی پولیسنگ کوہی بہترین ماڈل سمجھا جاتا ہے۔     

 

 

ایڈوانس ٹیکس سے کاشتکاروں کو کوئی نقصان نہیں پہنچے گا، کاشتکاران صوابی

22 Jun, 2019, No comments
رپورٹ: نیازبین خبریال


اسلام آباد، 19جون، 2019: خیبر پختونخوا سے تعلق رکھنے والے تمباکو کے کاشتکاروں نے، بدھ کے دن، ایک وضاحتی بیان میں کہا کہ با اثر کاشتکار غلط انداز میں یہ دعویٰ کر رہے ہیں کے تمباکو پر ایڈوانس ٹیکس سے اُن پر بوجھ پڑے گا ۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ حکومت کی جانب سے بنائے گئے قوانین میں کاشتکاروں کے حقوق کا تحفظ کیا گیا ہے اور غیر قانونی سگریٹس بنانے والے مقامی عناصر حقیقی کاشتکاروں کے روزگار کو نقصان پہنچا رہے ہیں اور اُسے ایک سیاسی کھیل بنا رہے ہیں ۔ 



خیبر پختونخوا سے تعلق رکھنے والے تمباکو کے کاشتکاروں کے ایک گروپ نے نیشنل پریس کلب میں ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ کاشتکاروں کی یہ نمائندہ تنظی میں غیر قانونی سگریٹس تیار کرنے والے مقامی عناصرکے اثر میں ہیں جن کے سیاسی عزائم ہیں اورانہیں اس کام کے لیے اُکسایا 

گیا ہے ۔ 



انہوں نے مزید کہا کہ کاشتکاروں کی تنظیموں کو حکومت پر دباوَ ڈالنے کی خاطراستعمال کیا جا رہا ہے تاکہ اسے ان درست اقدمات کو واپس لینے پر مجبور کیا جا سکے اگرچہ یہ ٹیکس غیر قانونی تجارت کے خاتمے اور طویل عرصے کے دوران تمباکو کی مسلسل پیداوار کے لیے مدد فراہم کرنے کی غرض سے متعارف کرایا گیا ہے ۔ 



جن کاشتکاروں نے 300 روپے فی کلو گرام کے حساب سے ایڈوانس ٹیکس کے خاتمے کے لیے احتجاج کیا تھا، اُن کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کچھ کاشتکار غلط دعویٰ کر ر ہے ہیں کہ اِس طرح اُن کا استحصال کیا جائے گا کیوں کہ’ایڈجسٹیبل ایکسائز ڈیوٹی(adjustable excise duty)‘کی وجہ سے تمباکو کی طلب میں کمی ہو جائے گی اور کاشتکاروں کی فصل فروخت نہیں ہو سکے گی ۔ انہوں نے مزید کہا کہ’’فی الحقیقت یہ تصور غلط ہے کیوں کہ پاکستان ٹوبیکو بورڈآرڈیننس 1968ء کی دفعہ 20;65;کاشتکاروں کو مکمل تحفظ فراہم کرتی ہے اور تمباکو کمپنیوں کے لیے یہ بات لازم قرار دیتی ہے کہ وہ غیر فروخت شدہ فاضل تمباکو بھی کاشتکاروں سے خرید لیں ۔ ‘‘ 



انہوں نے ایڈوانس ٹیکس کے اثرات کی مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ کاشتکار اس با ت کا غلط دعویٰ کر رہے ہیں کہ اِس طرح اُن کا استحصال کیا جائے گا اور ’ایڈجسٹیبل ایکسائز ڈیوٹی‘ کی وجہ سے ان کی فصل کے لیے کم قیمت کی پیشکش کی جائے گی ۔ 



انہوں نے مزید کہا کہ’’یہ غلط بیانی ہے کیوں کہ ہر سال کم از کم علامتی قیمت (;77;inimum ;73;ndicative ;80;rice;59; ;777380;) کا تعین وزارت تجارت کرتی ہے اور اس موقع پر کاشتکاروں کی بھی بھرپور نمائندگی ہوتی ہے ۔ یہ کم از کم قیمت بھی تمباکو کی فی کلو گرام پر ہوتی ہے جو تمباکو کے کاشتکاروں کو پیش کی جاتی ہے ۔ کم از کم قیمت سے نیچے کی جانے والی کوئی بھی خریداری غیر قانونی اور پاکستان ٹوبیکو بورڈ کے قوانین کے تحت ممنوع ہے ۔ ‘‘ 



انہوں نے برآمد کے حوالے سے ایک اور غلط بیانی کی بھی وضاحت کی ۔ انہوں نے کہا کہ فی الحقیقت تمباکو کا بہت معمولی حصہ پاکستان سے برآمد کیا جاتا ہے اور یہ پہلے ہی فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی ;838279; 1149 of 2018کے تحت ٹیکس سے مستثنیٰ ہے ۔ لہٰذا ایک مرتبہ پھر غیرقانونی طور پر سگریٹ بنانے والوں کی جانب سے غلط بیانی ہے ۔ 



کاشتکاروں کو گمراہ کیا جا رہا ہے اور اِس مرحلہ پر غیرقانونی سگریٹس بنانے والوں کی جانب سے اُنہیں استعمال کیا جارہا ہے کیوں کہ یہ نفاذ نہ صرف اُن کو پروسیس کیے ہوئے پتوں پر ایڈجسٹیبل ٹیکس کی ادائیگی پر مجبور کرتا ہے بلکہ ایف بی آر کو بھی تمام سگریٹ تیار کنندگان کی جانب سے پتوں کی خریداری کے بارے میں ڈیٹا مہیا کرتا ہے ۔ یہ ایڈوانس ٹیکس ہے اور ایڈجسٹیبل ہے اور اِس کا اطلاق سگریٹ بنانے والوں پر ہوتا ہے اور یہ کسی بھی کاشتکار کو قطعاًنقصان نہیں پہنچاتا ہے اگرچہ غیرقانونی سگریٹس بنانے والے والے خیبر پختونخوا کے کاشتکاروں کو اپنے فائدے کے لیے گمراہ کر رہے ہیں ۔ 

خیبر پختون خواہ کے کاشتکاروں اور صنعتی مزدور تنظیموں کا ٹیکس کے خلاف اہم پریس کانفرنس

18 Jun, 2019, No comments
رپورٹ: نیازبین خبریال
خیبر پختون خواہ کے کاشتکاروں اور صنعتی مزدور تنظیموں کے عہدیدار مورخہ 17 جون 2019 کو نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں
 پریس کانفرنس کیا ۔ ملٹی نیشنل کمپنیوں کی ناپاک کوششوں سے حکومت نے کاشتکاروں کے تمباکو پر300 روپے فی کلو گرام تمباکو ٹیکس لگایا گیا ۔ پریس کانفرس میں محنت کش لیبر فیڈریشن خیبر پختون خواہ ، کسان بورڈ پاکستان، سرحد ایگریکلچرل اینڈرورل ڈیولپمنٹ ارگنائزیشن (رجسٹرڈ) (;8365826879;) اور انجمن تحفظ کاشتکاران تنظیموں کے عہدیداروں نے شرکت کی ۔ جس میں مطالبہ کیا کہ وزیر خزانہ جناب عماد اظہر نے کاشتکار تنظیموں اور صنعتی مزدوروں کے ساتھ ;706682; افس اسلام آباد میں 29 مئی 2019 کو میٹنگ کرکے وعدہ کیاگیا تھا کہ بجٹ 2020-2019 میں تمباکو کاشتکاروں پر300 روپے فی کلوگرام کوئی ٹیکس نہیں لگائےں گے نیا ٹیکس سیگریٹ پر لگائیں گے لیکن حکومت کی طرف سے وعدے کے باوجود کاشتکاروں کے تمباکو پر 300 روپے فی کلوگرام ٹیکس لگایا گیا ۔ ٹیکس سے کاشتکاروں اور صنعتی مزدوروں کا معاشی قتل عام ہو جائے گا جس سے خیبر پختون خواہ صوبے کے0 113400 کاشتکار اور 15000 صنعتی مزدور متاثر ہو جائےں گے ۔ جوکہ خیبر پختون خواہ کے کاشتکاروں اور صنعتی مزدوروں کے ساتھ انتہائی ظلم ہے ۔ 

ملٹی نیشنل کمپنیاں کاشتکاروں کوً 36% سود پر قرض کھاد ، تخم اور تمباکو پکنے کے لئے لگڑی دیکر کاشتکاروں پر فروخت کرتا ہے ۔ سودی رقم کے عوض ملٹی نیشنل کمپنیاں کاشتکاروں سے مجبوراً تمباکو خرید لیتا ہے جوکہ جبری مشقت ہے ۔ حکومت پاکستان قوانین کے مطابق یہ سخت جرم ہے ۔ کاشتکار مجبور ہو کر کم قیمت پر تمباکو ان ملٹی نیشنل کمپنیوں کو بیچتا ہے ۔ 

جناب حاجی عبدالنبی مہمند آف شیرگڑھ صوبائی صدر سرحد ایگریکلچرل اینڈرورل ڈیولپمنٹ ارگنائزیشن (رجسٹرڈ)(;8365826879;)، جناب رضوان اللہ صدر کسان بورڈ پاکستان ، ابراراللہ صدر محنت کش لیبر فیڈریشن خیبر پختون خواہ ، جناب حاجی نعمت شاہ صدر انجمن تحفظ کاشتکاران، جناب حسین آحمد جنرل سیکرٹری (;8365826879;) اور جناب اقبال خان صدر تمباکو ڈیلر ایسوسی ایشن نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ دہشت گردی کا مارا ہوا صوبہ خیبر پختون خواہ پہلے سے معاشی بہران میں ہے اور بے روزگاری عام ہے اب ہمارے پاس صرف زراعت باقی ہے جس میں تمباکو کیش فصل ہے اگر حکومت نے کاشتکاروں سے یہ بھی چھینا تو اس سے تقریباً 1145000 محنت کشوں کی معاشی موت ہو جائے گی ۔ جس کے لئے ہم تیار نہیں ہم تمام کاشتکار مزاہمت کریں گے اپنے بچوں کی مستقبل کے لئے کیوں کہ تمباکو فصل کی وجہ سے ہمار ے بچے سکولوں میں پڑھتے ہیں ، ہ میں علاج معالجے کی سہولت اس تمباکو سے حاصل ہے، ہمارے بچوں کی شادیاں اس تمباکو سیزن میں ہوتی ہیں ، ہم حج و عمرے کے لئے سیزن ختم ہونے کے بعد جاتے ہیں یہاں تک کہ ہماری زندگی کا دارومدار اس تمباکو فصل سے ہے کیوں کہ تمباکو واحد کیش فصل ہے اور اس کی قیمت کا تعین پہلے سے طے شدہ ہوا ہوتا ہے ۔ 

ملٹی نیشنل کمپنیوں کی پالیسیوں کی وجہ سے پچھلے سال ملک کو 294 ملین روپے نقصان ہوا اور تقریباً ۰۴۸ٹیکنکل ورکرز بے روزگار ہو گئے ۔ اسی طرح چار (۴) سالوں میں تمباکو پیداوار140 ملین کلو گرام سے کم ہو کر 70 ملین کلوگرام ہو گیا جو کہ 50% کم ہوا ۔ تمباکو انڈسٹری میں ملٹی نیشنل کمپنینوں کی اجارہ داری ہے ۔ ملکی صنعت کاروں کو ختم کرنے کی کوششیں جاری ہیں جس میں ملک کی بیروکریسی ملوث ہے اور ملکی صنعتکاروں کی صنعت ختم کرکے بیرونی صنعت کاروں کے لئے راہیں ہموار کی جا رہی ہے ۔ 

اس تمباکو فصل سے ہماری ملک کی معیشت وابسطہ ہے ہم پہلے سے اس تمباکو کی فصل سے ہر سال اربوں روپے ٹیکس حکومت کو ادا کررہے ہیں لیکن اب حکومت میں بیٹھے ہوئے کرپٹ بیروکیٹ ملٹی نیشنل کمپنیوں سے رشوت لیکر تمباکو جسے کیش فصل کو حتم کرکے ملک میں معاشی بہران پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور موجودہ حکومت کے لئے مزید مشکلات پیدا کی جارہی ہیں جس کے لئے ہم کاشتکار اور صنعتی مزدور بلکل تیار نہیں ہے ۔ 

ہم تمام عہدیدار حکومت پاکستان سے اپیل کرتے ہیں کہ ملٹی نیشنل کمپنیوں نے ہمارے ملک کی جڑھیں کھوکلی کی ہوئی ہے ہمارے ہزاروں ورکرز کو بے روزگار کئے ہوئے ہیں اب کاشتکاروں کی زمینیں بنجر کرنا چاہتے ہیں خدارا حکمرانوں ہوش سے کام لو اور پاکستان پر رحم کرو،بے روزگاری مزید مت بڑھاءو ۔ وزیر اعظم عمران خان صاحب کو خیبر پختون خواہ کے عوام نے ووٹ کے ذریعے وزیر اعظم بنایا کیوں کہ پشتونوں کے ساتھ پہلے بہت ظلم ہوا لیکن تحریک انصاف کی حکومت میں کاشتکاروں اور مزدوروں کے ساتھ انصاف کی بجائے مزید ظلم ہوا ۔ عمران خان صاحب پشتونوں پر رحم کرو ہم بھی انسان ہیں ہمارے بھی بچے ہیں ۔ احساسات رکھتے ہیں ۔ پشتونوں پر رحم کرو ۔ 

اگر حکومت نے 300 روپے ٹیکس فی کلو گرام واپس نہیں لیا اور فلپ مورس پاکستان لمیٹڈ، پاکستان ٹوبیکو کمپنی ورکرز بحال نہیں کئے تو ہم تمام کاشتکاروں اور مزدوروں نے فیصلہ کیا ہے کہ ہم سڑکوں پر نکل آئیں گے ۔ ہم مزدور اور کاشتکار کسی ;777865; یا ;778065; کو اپنے حلقے آنے نہیں دیں گے اورکاشت کئے ہوئے تمباکو ان ;777865; یا ;778065; کے گھروں کے سامنے جلائےں گے ۔ تحریک انصاف;777865; یا ;778065; آئندہ ووٹ مانگنے کی بھی زہمت نہ کریں ۔ کسی بھی کمپنی کو تمباکو خریداری نہیں کرنے دینگے اور نہ سیگریٹ بنانے دیں 

وفاقی دارالحکومت میں پولیس اصلاحات کے نفاذ میں قانون ساز اداروں اور میڈیا کا کردار

29 May, 2019, No comments
by Waqar Ali Shah
29-مئی ، 2019

سول سوسائٹی ، خواجہ سرا کمیونٹی، مذہبی اقلیتوں ، میڈیا اور تعلیمی اداروں کے نما ئندوں پر مشتمل پولیس
ریفارمزکے لئے بنائے گئے ایک نیٹ ورک پاکستان فورم فور ڈیموکریٹک پولیسنگ (PFDP) نے اسلام آباد پریس
کلب میں ایک مکالمے کا اہتمام کیاجس کا مقصد وفاقی دارلحکومت میں پولیس اصلاحات کے حوالے سے تجاویز دینا
تھا۔ اس مقصد کے لئے ممبر قومی اسمبلی جناب صداقت علی عباسی اور پریس کلب کے صدر جناب شکیل قرار کو
بھی مدعو کیا گیا ۔ مکالمے کا مقصد پولیس اصلاحات کی اہمیت اور ضرورت کو اجاگر کرنا تھا۔ پاکستان فورم فور
ڈیموکریٹک پولیسنگ کے نما ئندوں نے حکومتی ترجمان کے سامنے سول سوسائٹی کا چارٹر برائے ر پولیس
اصلاحات پیش کیااور اس بات پر زور دیا کہ وہ پولیس اصلاحات کے حوالے سے اپنے منشور پر عمل در آمد کرتے
ہوئے وفاقی دارلحکومت میں پولیس اصلاحات کے لئے اپنا کردار ادا کریں تاکہ صنفی تشدد کے واقعات کی روک تھام
کے لئے عملی اقدامات کئے جا سکیں۔صنفی تشدد کے خاتمے اور پولیس اصلاحات کے لئے کام کرنے والی غیر
سرکاری تنظیم روزن کے سینئیر مینیجر سیدصفی پیرزادہ نے اس حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی
دارلحکومت میں پولیس اب تک158 سال پرانےانگریزوں کے بنائےہوئے1861 ء کے قانون کے تحت ہی اپنے
فرائض سرانجام دے رہی ہےجبکہ دور حاضر کے تقاضوکےمدنظر ر پولیس اصلاحات ناگزیر ہیں جیسا کہ دنیا بھر
میں جمہوری بنیادوں پر استوار کمیونٹی پولیسنگ کوہی بہترین ماڈل سمجھا جاتا ہے۔
سول سوسائٹی کا چارٹر برائے ر پولیس اصلاحات مندرجہ ذیل نکات پر مشتمل ہے:
پولیس اسٹیشن کو بااختیار بنایا جائے۔ پولیس اسٹیشن کو بااختیار بنانے کے لئے ضروری ہے کہ پولیس اسٹیشن کے
مالی اور انسانی وسائل میں اضافہ کیا جائے۔ اس کے علاوہ پولیس میں بھرتیوں، تبادلوں، تفتیش اور ترقیوں کے حوالے
سے بیرونی دباؤ سے آزاد کیا جائے۔ پولیس میں سیاسی مداخلت کاخا تمہ کیا جائے۔ پولیس میں اندرونی اور بیرونی
احتساب کے عمل کوپبلک سیفٹی کمیشن برائے عوامی تحفظ اور شکایات کمیشن کے ذریعے موئژ بنایا جائے۔ تفتیشی
عمل کے معیار اور بجٹ کو بڑھایا جائے۔ بچوں،خواتین، معزور افراد، مذہبی اقلیتوں اور معاشرے کے کمزور طبقات
کی ضروریات کو خصوصی توجہ دی جائے۔ پولیس اور عوام کے درمیان فاصلوں کو کم کرنے کے لئے بھی اقدامات
کئے جائیں۔


حکومتی ترجمان نے وفاقی دارلحکومت میں نئے پولیس قانون کو متعارف کرانے کے حوالے سے پیش آنے والے
مسائل اور ان کے سدباب کے لئے لائحہ عمل پر حاضرین کو آگاہ کیا۔اس حوالے سے مزید بات کرتے ہوئےممبر
قومی اسمبلی جناب صداقت علی عباسی نے اپنے تعاون اور خیبر پختونخواکی طرز پر نئے قانون کے نفاذ کا یقین
دلایا۔انہوں نے کہا کہ پولیس اصلاحات حکومت کی اولین ترجیحات میں سے ہے اس لئے جہاں تک ہو سکے گا وہ اس
پیغام کو متعلقہ اداروں تک پہنچائیں گے۔
اسپیکررز نے قومی اور علاقائی ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے اپیل کی کہ وہ پولیس کی بہتری کے لئے قانون سازی
کے مطالبہ کی توثیق کرتے ہوئے جہاں تک ممکن ہو سکے اس ایجنڈا کو اٹھائیں۔ اس تناظر میں صنفی طور پر
حساس معاشرے اور اداروں کے قیام اور پولیس اصلاحات کے لئے میڈیا کے موئثر کردار پر روشنی ڈالتے ہوئے
پریس کلب کے صدر شکیل قرار نےکہا کہ اس حوالے سے میڈیا کو کلیدی کردار دا کرنا ہوگا۔
بچوں کے حقوق کے لئے کام کرنے والے نیٹ ورکmovement Child Rights M کے نمائندے سجاد چیمہ
نے اس حوالے سے اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بچوں کے خلاف ہونے والے تشدد کےبڑھتے ہوئے
واقعات کی روک تھام کے لئے پولیس اصلاحات ناگزیر ہیں۔ ہم حکومت سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ عوام کے جان و
مال کے تحفظ کے لئے پو لیس اصلاحات کو یقینی بنائیں ۔
مقامی شہریوں، سول سوسائٹی کے نمائندوں، عورتوں اور بچوں کے حقوق کے تحفظ کے لئے کام کرنے والے
تنظیموں،خواجہ سراوں، نوجوانوں، خواتین اور مذہبی اقلیتوں سے تعلق رکھنے والے افراد نےبڑی تعداد میں مکالمے
میں شرکت کی۔ شرکاء کا کہنا تھا کہ صنفی تشدد کے واقعات کی روک تھام کے لئے نظام انصاف خاص طور پر
پولیس میں اصلاحات ناگزیر ہیں۔بنیادی ڈھانچے، قانون سازی اور رویوں میں تبدیلی کے لئے پولیس ٹریننگ کے لئے
بھی تجاویز بھی پیش کی گئیں۔

الاصلاح سنٹرکی اسلام آباد میں یتیم بچوں میں عید گفٹس اور ضرورت مند خاندانوں میں راشن تقسیم

14 May, 2019, No comments

by Waqar Ali Shah
الاصلاح سنٹر اللہ کے فضل سے گزشتہ 17 سالوں سے یتیم بچوں اور بچیوں کی کفالت کر رہا ہے۔ اب تک 450 سے زائد بچوں اور
بچیوں کی کفالت اور تعلیم و تربیت کا عمل مکمل ہو چکا ہے۔ اِس وقت ادارے میں 150کے قریب بچے اور بچیاں زیر کفالت ہیں جن کی رہائش،خوراک،لباس ،صحت اور تعلیم وتربیت جیسی ضروریات عام مسلمان بہن بھائیوں کے مالی تعاون سے پوری کی جارہی ہیں،بچوں اور بچیوں کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ رکھنے کے لیے مختلف ٹریننگز،ورکشاپس،سٹڈی ٹورز،سٹڈی سرکلز،بزم اَدب،قرآن کلاسز اور کئی ہم نصابی سرگرمیوں میں مصروف رکھاجاتا ہے تاکہ کل یہ بچے معاشرے کے سود مندشہری بن سکیں اور اپنی عملی زندگی میں کامیابی کے ساتھ قدم رکھ سکیں۔
الاصلاح سنٹرکی اسلام آباد برانچ میں 6 مئی 2019 کو 4:00 بجے ایک تقریب کا انعقاد کیا گیاجس میں یتیم بچوں میں عید گفٹس اور ضرورت مند خاندانوں میں راشن تقسیم کیا گیا۔اس موقع پر ڈائریکٹر الاصلاح سنٹر اسلام آباد نے کہا کہ رمضان سب کا ہے اور اس با برکت مہینے کے استقبال میں اس چھوٹی مگر پر خلوص تقریب کا انعقاد اس نیت سے کیا گیا کہ ان بچوں کو ان فیملیز کو یہ احساس دیا جائے کہ یہ تنہا نہیں ہیں۔ مگر یہ کافی نہیں ہے بس ایک کوشش ہے ہمیں بڑے پیمانے پر ان کے لئے کچھ کرنے کی ضرورت ہے ۔ انہوں نے تمام مخیر حضرات سے پر زور اپیل کی کہ اگے بڑھ کر ال اصلاح سینٹر کا ساتھ دیں اور یتیم بچوں اور بچیوں کی آنکھوں میں جو روشن مستقبل کے خواب ہیں انہیں پورا کرنے میں ان کی مدد کریں

Recent Posts

  • مادری زبانوں کی فروغ میں رسائل اور آن لائن فورمز کا کردار
    25 Feb, 2020
  • یونیورسٹی کینٹین ویٹر سے یونیورسٹی کے گریجویٹ ہونے تک کا سفر
    5 Sep, 2019
  • منشیات سے پاک معاشرہ, اس عزم کے ساتھ ہم آگے بڑھیں گے: سی ای او نیاز احمد
    9 Aug, 2019
  • پولیس میں بھرتیوں، تبادلوں، تفتیش اور ترقیوں کے حوالے سے بیرونی دباؤ سے آزاد کیا جائے؛ ماہرین
    8 Jul, 2019
  • ایڈوانس ٹیکس سے کاشتکاروں کو کوئی نقصان نہیں پہنچے گا، کاشتکاران صوابی
    22 Jun, 2019
  • خیبر پختون خواہ کے کاشتکاروں اور صنعتی مزدور تنظیموں کا ٹیکس کے خلاف اہم پریس کانفرنس
    18 Jun, 2019
  • وفاقی دارالحکومت میں پولیس اصلاحات کے نفاذ میں قانون ساز اداروں اور میڈیا کا کردار
    29 May, 2019

Extra info

Replace this text with some additional info. If there is no extra info, you can hide this text or hide this block by clicking the icon at the above right corner.

Created with Mozello - the world's easiest to use website builder.

Create your website or online store with Mozello

Quickly, easily, without programming.

Report abuse Learn more