مادری زبانوں کی فروغ میں رسائل اور آن لائن فورمز کا کردار

وقارعلی شاہ دریاب
کسی بھی زباں کو تقویت بخشنے کیلئے ادبی رسائل اور آن لائن فورمز کا وجود بہت اہم کردار ادا کرتا ہے، سوشل میڈیا اور پرائیویٹ چینلز کی یلغار سے پہلے اخبارات اور رسائل کو ایک منفرد مقام حاصل تھا. سوشل میڈیا کے آنے کے بعد کچھ رسائل یا تو شائع ہونا بند ہوگئے یا وہ ڈیجیٹلائز کئے گئے.
چونکہ میں پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کے ساتھ وابسطہ ہوں تو صحافتی سفر کے ساتھ ساتھ ادبی میدان میں پشتو زبان کی فروغ کے لئے اپنے حصے کا کام سرانجام دے رہا ہوں۔
آج سے تقریبا چار سال پہلے کچھ دوستوں کے ساتھ مل کر "آواز" کے نام سے ایک پشتو رسالے کا اشاعت کرنے لگے، اس میں پشتو ادب کی تاریخ، پشتونوں کی تاریخ، ، ادبی تقریبات کی رپورٹس، شعروشاعری اور مختلف عنوانات پر مضامین چھپتے تھے۔
یہ سلسلہ دو سال تک جاری رہا ہم اپنی مڈ آپ کے تحت لگے رہیں لگے رہیں لیکن مالی بحران کی وجہ سے رسالے کی اشاعت بند کرنے پر مجبور ہوگئے کیونکہ پانچ سو میں سے ۱۰۰ شمارے بمشکل بک جاتے تھے اور باقی کے ۴۰۰ شمارے تحائف کی شکل میں بانٹھ کر مفت چلے جاتے تھے۔ یہ ایک الگ بات ہے لیکن میرے نزدیک سوشل میڈیا سے پہلے اخبارات اور رسائل کا کردار اسلئے اہم ہے کہ انٹرنٹ کی سہولت سے محروم لوگ بھی رسائل سے مستفید ہوتے رہتے ہیں۔
میری تجربے کے مطابق ہماری میگزین "آواز" ان خواتین اور بزرگوں تک بھی پہنچ جاتی تھی جن کا سوشل میڈیا سے دوردور تک کوئی تعلق نہیں تھا۔
یہ وہ لوگ تھے جو ہر وقت ہمارے ساتھ رابطے میں رہے ہماری کاوشوں کو سراہتے رہے اور رسالے کی دوبارہ اشاعت کا اصرار بھی کرتے رہے لیکن ایک سال تک اشاعت کا سلسلہ ٹوٹا رہا۔
دور حاضر میں ایک خاصی بڑی تعداد ادبی رسائل کی ہے جن میں ماہنامے، دوماہی، سہہ ماہی، ششماہی اور سالنامے شامل ہیں۔ یہ تمام رسائل کسی نہ کسی طریقے سے عوام تک پہنچ جاتی ہے۔ یہ بات بھی سمجھنا چاہئے کہ رسائل کی پابندی یا غیر پابندی کوئی خاص اہمیت نہیں رکھتی بہرحال ان میں شائع شدہ مواد کی اہمیت برقرار رہتی ہے بلکہ وہ تاریخ کا حصہ بن جاتا ہے۔
ہمارے لئے تشویش کی بات یہ ہے کہ خیبرپختون خوا کے تعلیمی نصاب میں پشتو زبان کو جگہ نہیں مل رہی جس کے نتیجے میں زیادہ تر لوگ پشتو لکھنا پڑھنا نہیں جانتے۔
میں بڑے بڑے پشتون ڈاکٹرز اور پروفیسرز کو جانتا ہوں جن کومیں تعلیمی نصا ب کے متاثرین کہتا ہوں اس لئے کہتا ہوں کیونکہ وہ پشتو میں ایک جملہ بھی تحریر نہیں کرپاتے تو وہ پشتو کا رسالہ خریدے گا کیوں اور پڑھےگا کیسے؟
بہرحال سب مشکلات کے باوجود ایک سال کے وقفے کے بعد ہم نے "آواز" میگزین کو نوے غگ یعنی "نئی آواز" کے نام سے دوبارہ چھپنے کا فیصلہ کیا اور ابھی تک اسکے پانچ شمارے چھپ چکے ہیں۔
دوسری ضروری بات میں یہ کرنا چاھوں گا کہ ہمارے میڈیا کے کیمرے ان لوگوں کی طرف بہت جلد مڑ جاتی ہے جو وائرل ہو جاتے ہیں اگر خدانخواستہ حریم شاہ کو بخار ہو جاتی ہے تو پورا کا پورا میڈہا اسی بخار کی لپیٹ آجاتا ہے۔
لیکن میری کوشش ہے کہ میں ان لوگوں کو سامنے لاوں جن کو نذر انداز کیا گیا ہو مطلب یہ کہ جن کی کتابیں بھی چھپی ہو اور زبان کی فروغ میں اپنا کردار ادا کرتے ہیں لیکن میڈیا تک انکی رسائی نہیں ہوتی تو انشاءاللہ میں نے ان لوگوں تک پہنچنا ہے اور سامنے لانا ہے۔
آن لائن فورمزکی بات کی جائے تو سوشل میڈیا کے کردار سے کون واقف نہیں۔بچہ ہو یا بوڑھا، مرد ہو یا خواتین سوشل میڈیا ہر کسی کی زندگی کا ایک لازم جز بن چکا ہے۔ دیگر چیزوں کی طرح سوشل میڈیا کے بھی مثبت اور منفی اثرات ہیں جو سراسر اس کے استعمال پر منحصر ہیں۔
ادب کے فروغ کے لئے سوشل میڈیا دور حاضر کی اہم ضرورت ہے۔ اسی ضرورت کو مد نظر رکھتے ہوئے سوشل میڈیا پر کئی ادبی فورمز کا قیام عمل میں آیا جنہوں نے ادب کو فروغ دینے میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔
ساتھ ہی ان فورمز کے ذریعے نوجوان نسل میں ذوقِ مطالعہ پیدا ہوا ہے، انہوں نے سینئر شعراء کرام اور ادیبوں کی کتب کا مطالعہ شروع کیا ہے اور باقاعدہ طور پر لکھنے سے قبل سیکھنے کی طرف متوجہ ہوئے ہیں جوکہ ایک خوش آئیند بات ہے
اس پلیٹ فارم سے میں یہی پیغام دوں گا کہ سوشل میڈیا فورمز فیس بک، ٹوَئیٹر، انسٹاگرام، اور یوٹیوب وغیرہ ہماری سہولت کے لئے ہیں لھذا انکا مثبت استعمال کیجئے اور اسکو اپنی قوم، ادب اور ثقافت کے فروغ کا ذریعہ بنایئیں۔
یونیورسٹی کینٹین ویٹر سے یونیورسٹی کے گریجویٹ ہونے تک کا سفر

وقارعلی شاہ_خصوصی رپورٹ
اگر لگن، محنت، حوصلہ اور ثابت قدمی ہو تو معذوری اورغربت آگے بڑھنے کاراستہ نہیں روک سکتا، پروفیسر ڈاکٹر گل زمان
عبیدالرّحمٰن سکنہ گل ڈھیری، اکوڑہ خٹک نے گورنمنٹ ہائی سکول شیدو نوشہرہ سے میٹرک کرنے کے بعدسٹی پولی ٹیکنک انسٹیٹیوٹ سے الیکٹریکل میں ڈپلومہ حاصل کیا۔
یاد رہے منسوب کا تعلق ایک غریب گھرانےسے ہے والد کے گھٹنوں کی تکلیف کیوجہ سے ان کےذریعہ معاش کا خاص ذریعہ نہ تھا اور منسوب کوآنکھوں کی خاص بیماری تھی جس کیوجہ سے آٹھ اپریشن کروا چکا تھا۔ لیکن ان نامساعد حالات کے باوجود گھریلوں معاشی معاملات میں ہاتھ بٹھانا ان کی مجبوری تھی جسکی وجہ سے ان کا تعلیمی سلسلہ رک گیا اور آخر روزگار کی تلاش میں ملاکنڈ یونیورسٹی کے کینٹین آپہنچا اور ویٹرکی حیثیت سےکام کا آغاز کیا۔
اسی اثناء یونیورسٹی کے انسان دوست اور مخلص اساتذہ نے منسوب کو نہ صرف تعلیمی سفرجاری رکھنے کا مشورہ دیا بلکہ معذور آفراد کی سیٹ پر داخلہ اور HEC Need Base Scholarshipsسکالرشپ کے اصول میں مدد کی تاکہ منسوب اپنے تعلیمی سفر کو جاری رکھ سکے اور بالآخر سال 2015 میں BS-ITسے دوبارہ تعلیمی سفرکا آغاز کیا۔ منسوب اپنے کھانے پینے کے اخراجات اور والد کے معاشی تعاون کیلئے کلاسس کے بعد 12 گھنٹے ویٹر کی ڈیوٹی کرتا تھا۔ منسوب نے دشوارگزار حالات کاجرات سے مقابلہ کیا اور ملاکنڈیونیورسٹی سے متعلقہ شعبے میں3.1 GPA لے کر سرخرو ہوئے۔
ملاکنڈ یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسرڈاکٹر گل زمان نے طالب علم عبیدالرّحمٰن کو خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ اگر لگن، محنت، حوصلہ اور ثابت قدمی ہو تو معذوری اورغربت آگے بڑھنے کاراستہ نہیں روک سکتا اور ملاکنڈ یونیورسٹی کی اولین ترجیح غریب اور معذور طلبا کی مدد کرنا اور ان کیلئے وسائل فراہم کرنا ہے، انھوں نے مذید کہا کہ Students Advancement Fund Endowment (SAFE))کے قیام کا مقصد ایسے ہی طلباء کی مالی مدد کرنا ہے تاکہ غربت اور معذوری کی وجہ سے کوئی تعلیم کے حصول سے محروم نہ رہ سکے اور ایسے طلباء کے خاندانوں کو مالی تعاون فراہم کرنے کیلئے ان طلباء کو روزگار فراہم کرنا ان کی اولیں ترجیح ہے۔
منشیات سے پاک معاشرہ, اس عزم کے ساتھ ہم آگے بڑھیں گے: سی ای او نیاز احمد

پولیس میں بھرتیوں، تبادلوں، تفتیش اور ترقیوں کے حوالے سے بیرونی دباؤ سے آزاد کیا جائے؛ ماہرین

اسلام آباد 08 جولائی 2019
وفاقی دارلحکومت میں
پولیس آرڈر 2002 اپنی اصل حالت میں نافذہونا چایئے۔ حکومتی اور اپوزیشن اراکین
اسمبلی کا متفقہ اعلامیہ
بلوچستان سے تعلق رکھنے والے سینیٹر میر کبیر شاہی، شنیلہ روتھ ممبر قومی اسمبلی، شگفتہ
جمانی ، نصرت بانو سحر عباسی ممبر سندھ اسمبلی اورفیاض احمد خا ن طوروریٹائرڈآ ئی جینے پاکستان فورم فور ڈیموکریٹک پولیسنگ کےزیر
اہتمام منعقدکرد ہ سیمینارمیں شرکت کی۔
پولیس اصلاحات کی ضرورت اور سیاستدانوں کے کردار کے حوالے سے منعقدہ سیمینار کا بنیادی مقصد جمہوری اور صنفی طور پر
حساس پولیس کے حصول کے لئے قا نونی ڈھانچے میں بہتری لانے کے لئے پیش آنے والے مشکلات اور ان کے حل کے لئے ممکنہ
طریقوں پر غور کرنا تھا۔ اس کے ساتھ ساتھ معاشرے میں پائے جانے والےصنفی تشدد کی روک تھام اور پولیس اصلاحات کے لئے
سیاستدانوں کے اہم کردار کے حوالے سے بات چیت کرنا تھا۔ اس کے علاوہ صنفی طور پر
حساس پولیس کے حصول کے لئے انسانی حقوق کے لئے کام کرنے والی تنظیموں کے کردار پر
بھی زور دیا گیا ۔
پولیس اصلاحات کی اہمیت پر روشنی
ڈالتے ہوئے سینیٹر میر کبیر احمد شاہی نے کہا کہ پولیس پر کام کا دباو بہت زیادہ ہے جس کی بڑی وجہ سیاستدانوں کے لئے وی آئی پی
ڈیوٹی سرانجام دینا ہے ۔ان وی آئی پی ڈیوٹیز پر سالانہ دو ارب روپے خرچہ آتا ہے ۔ انہوں
نے پولیس اصلاحات کے معاملے کو سینیٹ میں زیر بحث لانے کی یقین دہانی کرائی تا کہ
158سالہ پرانے نوآبادیاتی نظام
کےکالے قانون سے چھٹکارا حاصل کیا جائے۔ انہوں نےمعاشرے سے ناانصافی اورصنفی تشدد
کے خاتمے کے لئے مکمل حمایت کی یقین دہانی کرائی۔
شنیلہ روتھ ممبر قومی اسمبلی نے مذہبی
اقلیتوں کی نمائندگی کرتے ہوئے کہا کہ معاشرے
کے کمزور طبقات خاص طور پر خواتین ،بچے، خواجہ سرااور مزہبی اقلیتوں کے
حقوق کے تحفظ کے لئے پولیس اصلاحات ناگزیرہیں۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پولیس
میں تعیناتی کے نظام کو سیاسی مداخلت سے
پاک کرنا حکومت وقت کا نصب العین ہے ۔ انہوں
نے کہا کہ پولیس اصلاحات حکومت کی اولین
ترجیحات میں سے ہے اس لئے جہاں تک ہو سکے گا وہ اس پیغام کو متعلقہ اداروں تک
پہنچائیں گی۔
نصرت بانو سحر عباسی ممبر سندھ
اسمبلی نے “Sindh (Repeal of the Police
Act, 1861 and Revival of the Police Order, 2002) Amendment Bill 2019"
سےبات کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی مداخلت پولیس کے اچھے طریقے سے کام میں سب سے
بڑی رکاوٹ ہے۔ انہوں نے صوبائی حکومت کے اس بل کے پاس کرانے کے عمل کو شدید تنقید
کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن پارٹیوں کو اس بل پر بحث کرنے کا موقعہ ہی
نہیں دیا گیا۔ کےحوالے
فیاض احمد خا ن طوروریٹائرڈ آ ئی جی نے پولیس اصلاحات کے حوالے پیش آنے والے مسائل پر بات کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت ضرورت اس امر کی ہے کہ پورے ملک میں پولیس کے لئے یکساں قانون متعارف کرایا جائے ۔ پولیس بجٹ کا نوے فیصد سے زائد تنخواہوں کی مد میں خرچ ہو جاتا ہے جس کی وجہ سے پولیس اسٹیشن تک بہت کم بجٹ پہنچتا ہے ۔ پولیس آرڈر 2002 ایک وفاقی قانون ہے اور آئین کی رو سے صوبے اس سے متصادم کوئی نیا قانون نہیں بنا سکتے۔ انہوں نے وفاقی دارلحکومت میں پولیس اصلاحات کے لیے سول سوسایٹی، میڈیا ، پولیس اور سیاستدانوں کے باہمی تعاون پر زور دیا۔ سپریم کورٹ کے حکم سے بننے والی پولیس اصلاحات کمیٹی نے گراں قدر خدمات سرانجام دی ہیں ۔ پاکستان فورم فور ڈیموکریٹک پولیسنگ (PFDP) سماجی حقوق کے لئے کام کرنے والے اداروں، خواجہ سرا کمیونٹی، مذہبی اقلیتوں ، میڈیا اور تعلیمی اداروں کے نما ئندوں پر مشتمل پولیس ریفارمزکے لئے بنایا گیاایک نیٹ ورک ہے جو کہ پولیس اصلاحات کے لئے کام کررہا ہے۔ اس وقت پاکستان فورم فور ڈیموکریٹک پولیسنگ سندھ، پنجاب، خیبر پختونخواہ، وفاقی دارالحکومت کے علاوہ بلوچستان میں بھی کام کر رہاہے۔

سول سوسائٹی کا چارٹر
برائے ر پولیس اصلاحات مندرجہ ذیل نکات پر
مشتمل ہے:
پولیس اسٹیشن کو
بااختیار بنایا جائے۔ پولیس اسٹیشن کو بااختیار بنانے کے لئے ضروری ہے کہ پولیس اسٹیشن
کے مالی اور انسانی وسائل میں اضافہ کیا جائے۔ اس کے علاوہ پولیس میں بھرتیوں، تبادلوں،
تفتیش اور ترقیوں کے حوالے سے بیرونی دباؤ سے آزاد کیا جائے۔ پولیس میں سیاسی
مداخلت کاخا تمہ کیا جائے۔ پولیس میں اندرونی اور بیرونی احتساب کے عمل کوپبلک
سیفٹی کمیشن برائے عوامی تحفظ اور شکایات کمیشن کے ذریعے موئژ بنایا جائے۔ تفتیشی عمل
کے معیار اور بجٹ کو بڑھایا جائے۔ بچوں،خواتین، معزور افراد، مذہبی اقلیتوں اور معاشرے
کے کمزور طبقات کی ضروریات کو خصوصی توجہ دی جائے۔ پولیس اور عوام کے درمیان فاصلوں
کو کم کرنے کے لئے بھی اقدامات کئے جائیں۔
حکومتی ترجمان نے وفاقی دارلحکومت میں نئے پولیس قانون کو متعارف کرانے کے حوالے سے پیش آنے والے مسائل اور ان کے سدباب کے لئے لائحہ عمل پر حاضرین کو آگاہ کیا۔اس حوالے سے مزید بات کرتے ہوئےممبر قومی اسمبلی شگفتہ جمانی نے اپنے تعاون کا یقین دلایا۔ انہوں نے کہا کہ پولیس کے لئے مختص بجٹ انتہائی قلیل ہے لہذا اس میں اضافہ وقت کی اہم ضرورت ہے۔ خواجہ سرا کمیونٹی کو یقین دہانی کرائی کہ ان کے تحفط کے لئے پاس ہونے والے قانون سے متعلق ان کے تحفظات کو انسانی حقوق کی وزارت تک پہنچائیں گی۔ مزید بات کرتے ہوئے انہوں نےکہا کہ خواتین ،بچوں، خواجہ سرااور مزہبی اقلیتوں کے کے خلاف ہونے والے تشدد کےبڑھتے ہوئے واقعات کی روک تھام کے لئے پولیس اصلاحات ناگزیر ہیں۔ ہم حکومت سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لئے پو لیس اصلاحات کو یقینی بنائیں ۔پاکستان فورم فور ڈیموکریٹک پولیسنگ کے نما ئندوں نے حکومتی ترجمان کے سامنے سول سوسائٹی کا چارٹر برائے ر پولیس اصلاحات پیش کیااور اس بات پر زور دیا کہ وہ پولیس اصلاحات کے حوالے سے اپنے منشور پر عمل در آمد کرتے ہوئے وفاقی دارلحکومت میں پولیس اصلاحات کے لئے اپنا کردار ادا کریں تاکہ صنفی تشدد کے واقعات کی روک تھام کے لئے عملی اقدامات کئے جا سکیں۔صنفی تشدد کے خاتمے اور پولیس اصلاحات کے لئے کام کرنے والی غیر سرکاری تنظیم روزن کے سینئیر مینیجر سیدصفی پیرزادہ نے اس حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی دارلحکومت میں پولیس اب تک158 سال پرانےانگریزوں کے بنائےہوئے1861 ء کے قانون کے تحت ہی اپنے فرائض سرانجام دے رہی ہےجبکہ دور حاضر کے تقاضوکےمدنظر ر پولیس اصلاحات ناگزیر ہیں جیسا کہ دنیا بھر میں جمہوری بنیادوں پر استوار کمیونٹی پولیسنگ کوہی بہترین ماڈل سمجھا جاتا ہے۔
ایڈوانس ٹیکس سے کاشتکاروں کو کوئی نقصان نہیں پہنچے گا، کاشتکاران صوابی
خیبر پختون خواہ کے کاشتکاروں اور صنعتی مزدور تنظیموں کا ٹیکس کے خلاف اہم پریس کانفرنس
وفاقی دارالحکومت میں پولیس اصلاحات کے نفاذ میں قانون ساز اداروں اور میڈیا کا کردار
الاصلاح سنٹرکی اسلام آباد میں یتیم بچوں میں عید گفٹس اور ضرورت مند خاندانوں میں راشن تقسیم

