وفاقی دارالحکومت میں پولیس اصلاحات کے نفاذ میں قانون ساز اداروں اور میڈیا کا کردار
May 29, 2019 at 11:31 pm,
No comments
by Waqar Ali Shah
29-مئی ، 2019
سول سوسائٹی ، خواجہ سرا کمیونٹی، مذہبی اقلیتوں ، میڈیا اور تعلیمی اداروں کے نما ئندوں پر مشتمل پولیس
ریفارمزکے لئے بنائے گئے ایک نیٹ ورک پاکستان فورم فور ڈیموکریٹک پولیسنگ (PFDP) نے اسلام آباد پریس
کلب میں ایک مکالمے کا اہتمام کیاجس کا مقصد وفاقی دارلحکومت میں پولیس اصلاحات کے حوالے سے تجاویز دینا
تھا۔ اس مقصد کے لئے ممبر قومی اسمبلی جناب صداقت علی عباسی اور پریس کلب کے صدر جناب شکیل قرار کو
بھی مدعو کیا گیا ۔ مکالمے کا مقصد پولیس اصلاحات کی اہمیت اور ضرورت کو اجاگر کرنا تھا۔ پاکستان فورم فور
ڈیموکریٹک پولیسنگ کے نما ئندوں نے حکومتی ترجمان کے سامنے سول سوسائٹی کا چارٹر برائے ر پولیس
اصلاحات پیش کیااور اس بات پر زور دیا کہ وہ پولیس اصلاحات کے حوالے سے اپنے منشور پر عمل در آمد کرتے
ہوئے وفاقی دارلحکومت میں پولیس اصلاحات کے لئے اپنا کردار ادا کریں تاکہ صنفی تشدد کے واقعات کی روک تھام
کے لئے عملی اقدامات کئے جا سکیں۔صنفی تشدد کے خاتمے اور پولیس اصلاحات کے لئے کام کرنے والی غیر
سرکاری تنظیم روزن کے سینئیر مینیجر سیدصفی پیرزادہ نے اس حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی
دارلحکومت میں پولیس اب تک158 سال پرانےانگریزوں کے بنائےہوئے1861 ء کے قانون کے تحت ہی اپنے
فرائض سرانجام دے رہی ہےجبکہ دور حاضر کے تقاضوکےمدنظر ر پولیس اصلاحات ناگزیر ہیں جیسا کہ دنیا بھر
میں جمہوری بنیادوں پر استوار کمیونٹی پولیسنگ کوہی بہترین ماڈل سمجھا جاتا ہے۔
سول سوسائٹی کا چارٹر برائے ر پولیس اصلاحات مندرجہ ذیل نکات پر مشتمل ہے:
پولیس اسٹیشن کو بااختیار بنایا جائے۔ پولیس اسٹیشن کو بااختیار بنانے کے لئے ضروری ہے کہ پولیس اسٹیشن کے
مالی اور انسانی وسائل میں اضافہ کیا جائے۔ اس کے علاوہ پولیس میں بھرتیوں، تبادلوں، تفتیش اور ترقیوں کے حوالے
سے بیرونی دباؤ سے آزاد کیا جائے۔ پولیس میں سیاسی مداخلت کاخا تمہ کیا جائے۔ پولیس میں اندرونی اور بیرونی
احتساب کے عمل کوپبلک سیفٹی کمیشن برائے عوامی تحفظ اور شکایات کمیشن کے ذریعے موئژ بنایا جائے۔ تفتیشی
عمل کے معیار اور بجٹ کو بڑھایا جائے۔ بچوں،خواتین، معزور افراد، مذہبی اقلیتوں اور معاشرے کے کمزور طبقات
کی ضروریات کو خصوصی توجہ دی جائے۔ پولیس اور عوام کے درمیان فاصلوں کو کم کرنے کے لئے بھی اقدامات
کئے جائیں۔
حکومتی ترجمان نے وفاقی دارلحکومت میں نئے پولیس قانون کو متعارف کرانے کے حوالے سے پیش آنے والے
مسائل اور ان کے سدباب کے لئے لائحہ عمل پر حاضرین کو آگاہ کیا۔اس حوالے سے مزید بات کرتے ہوئےممبر
قومی اسمبلی جناب صداقت علی عباسی نے اپنے تعاون اور خیبر پختونخواکی طرز پر نئے قانون کے نفاذ کا یقین
دلایا۔انہوں نے کہا کہ پولیس اصلاحات حکومت کی اولین ترجیحات میں سے ہے اس لئے جہاں تک ہو سکے گا وہ اس
پیغام کو متعلقہ اداروں تک پہنچائیں گے۔
اسپیکررز نے قومی اور علاقائی ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے اپیل کی کہ وہ پولیس کی بہتری کے لئے قانون سازی
کے مطالبہ کی توثیق کرتے ہوئے جہاں تک ممکن ہو سکے اس ایجنڈا کو اٹھائیں۔ اس تناظر میں صنفی طور پر
حساس معاشرے اور اداروں کے قیام اور پولیس اصلاحات کے لئے میڈیا کے موئثر کردار پر روشنی ڈالتے ہوئے
پریس کلب کے صدر شکیل قرار نےکہا کہ اس حوالے سے میڈیا کو کلیدی کردار دا کرنا ہوگا۔
بچوں کے حقوق کے لئے کام کرنے والے نیٹ ورکmovement Child Rights M کے نمائندے سجاد چیمہ
نے اس حوالے سے اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بچوں کے خلاف ہونے والے تشدد کےبڑھتے ہوئے
واقعات کی روک تھام کے لئے پولیس اصلاحات ناگزیر ہیں۔ ہم حکومت سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ عوام کے جان و
مال کے تحفظ کے لئے پو لیس اصلاحات کو یقینی بنائیں ۔
مقامی شہریوں، سول سوسائٹی کے نمائندوں، عورتوں اور بچوں کے حقوق کے تحفظ کے لئے کام کرنے والے
تنظیموں،خواجہ سراوں، نوجوانوں، خواتین اور مذہبی اقلیتوں سے تعلق رکھنے والے افراد نےبڑی تعداد میں مکالمے
میں شرکت کی۔ شرکاء کا کہنا تھا کہ صنفی تشدد کے واقعات کی روک تھام کے لئے نظام انصاف خاص طور پر
پولیس میں اصلاحات ناگزیر ہیں۔بنیادی ڈھانچے، قانون سازی اور رویوں میں تبدیلی کے لئے پولیس ٹریننگ کے لئے
بھی تجاویز بھی پیش کی گئیں۔