یونیورسٹی کینٹین ویٹر سے یونیورسٹی کے گریجویٹ ہونے تک کا سفر

وقارعلی شاہ_خصوصی رپورٹ
اگر لگن، محنت، حوصلہ اور ثابت قدمی ہو تو معذوری اورغربت آگے بڑھنے کاراستہ نہیں روک سکتا، پروفیسر ڈاکٹر گل زمان
عبیدالرّحمٰن سکنہ گل ڈھیری، اکوڑہ خٹک نے گورنمنٹ ہائی سکول شیدو نوشہرہ سے میٹرک کرنے کے بعدسٹی پولی ٹیکنک انسٹیٹیوٹ سے الیکٹریکل میں ڈپلومہ حاصل کیا۔
یاد رہے منسوب کا تعلق ایک غریب گھرانےسے ہے والد کے گھٹنوں کی تکلیف کیوجہ سے ان کےذریعہ معاش کا خاص ذریعہ نہ تھا اور منسوب کوآنکھوں کی خاص بیماری تھی جس کیوجہ سے آٹھ اپریشن کروا چکا تھا۔ لیکن ان نامساعد حالات کے باوجود گھریلوں معاشی معاملات میں ہاتھ بٹھانا ان کی مجبوری تھی جسکی وجہ سے ان کا تعلیمی سلسلہ رک گیا اور آخر روزگار کی تلاش میں ملاکنڈ یونیورسٹی کے کینٹین آپہنچا اور ویٹرکی حیثیت سےکام کا آغاز کیا۔
اسی اثناء یونیورسٹی کے انسان دوست اور مخلص اساتذہ نے منسوب کو نہ صرف تعلیمی سفرجاری رکھنے کا مشورہ دیا بلکہ معذور آفراد کی سیٹ پر داخلہ اور HEC Need Base Scholarshipsسکالرشپ کے اصول میں مدد کی تاکہ منسوب اپنے تعلیمی سفر کو جاری رکھ سکے اور بالآخر سال 2015 میں BS-ITسے دوبارہ تعلیمی سفرکا آغاز کیا۔ منسوب اپنے کھانے پینے کے اخراجات اور والد کے معاشی تعاون کیلئے کلاسس کے بعد 12 گھنٹے ویٹر کی ڈیوٹی کرتا تھا۔ منسوب نے دشوارگزار حالات کاجرات سے مقابلہ کیا اور ملاکنڈیونیورسٹی سے متعلقہ شعبے میں3.1 GPA لے کر سرخرو ہوئے۔
ملاکنڈ یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسرڈاکٹر گل زمان نے طالب علم عبیدالرّحمٰن کو خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ اگر لگن، محنت، حوصلہ اور ثابت قدمی ہو تو معذوری اورغربت آگے بڑھنے کاراستہ نہیں روک سکتا اور ملاکنڈ یونیورسٹی کی اولین ترجیح غریب اور معذور طلبا کی مدد کرنا اور ان کیلئے وسائل فراہم کرنا ہے، انھوں نے مذید کہا کہ Students Advancement Fund Endowment (SAFE))کے قیام کا مقصد ایسے ہی طلباء کی مالی مدد کرنا ہے تاکہ غربت اور معذوری کی وجہ سے کوئی تعلیم کے حصول سے محروم نہ رہ سکے اور ایسے طلباء کے خاندانوں کو مالی تعاون فراہم کرنے کیلئے ان طلباء کو روزگار فراہم کرنا ان کی اولیں ترجیح ہے۔