پولیس میں بھرتیوں، تبادلوں، تفتیش اور ترقیوں کے حوالے سے بیرونی دباؤ سے آزاد کیا جائے؛ ماہرین

اسلام آباد 08 جولائی 2019
وفاقی دارلحکومت میں
پولیس آرڈر 2002 اپنی اصل حالت میں نافذہونا چایئے۔ حکومتی اور اپوزیشن اراکین
اسمبلی کا متفقہ اعلامیہ
بلوچستان سے تعلق رکھنے والے سینیٹر میر کبیر شاہی، شنیلہ روتھ ممبر قومی اسمبلی، شگفتہ
جمانی ، نصرت بانو سحر عباسی ممبر سندھ اسمبلی اورفیاض احمد خا ن طوروریٹائرڈآ ئی جینے پاکستان فورم فور ڈیموکریٹک پولیسنگ کےزیر
اہتمام منعقدکرد ہ سیمینارمیں شرکت کی۔
پولیس اصلاحات کی ضرورت اور سیاستدانوں کے کردار کے حوالے سے منعقدہ سیمینار کا بنیادی مقصد جمہوری اور صنفی طور پر
حساس پولیس کے حصول کے لئے قا نونی ڈھانچے میں بہتری لانے کے لئے پیش آنے والے مشکلات اور ان کے حل کے لئے ممکنہ
طریقوں پر غور کرنا تھا۔ اس کے ساتھ ساتھ معاشرے میں پائے جانے والےصنفی تشدد کی روک تھام اور پولیس اصلاحات کے لئے
سیاستدانوں کے اہم کردار کے حوالے سے بات چیت کرنا تھا۔ اس کے علاوہ صنفی طور پر
حساس پولیس کے حصول کے لئے انسانی حقوق کے لئے کام کرنے والی تنظیموں کے کردار پر
بھی زور دیا گیا ۔
پولیس اصلاحات کی اہمیت پر روشنی
ڈالتے ہوئے سینیٹر میر کبیر احمد شاہی نے کہا کہ پولیس پر کام کا دباو بہت زیادہ ہے جس کی بڑی وجہ سیاستدانوں کے لئے وی آئی پی
ڈیوٹی سرانجام دینا ہے ۔ان وی آئی پی ڈیوٹیز پر سالانہ دو ارب روپے خرچہ آتا ہے ۔ انہوں
نے پولیس اصلاحات کے معاملے کو سینیٹ میں زیر بحث لانے کی یقین دہانی کرائی تا کہ
158سالہ پرانے نوآبادیاتی نظام
کےکالے قانون سے چھٹکارا حاصل کیا جائے۔ انہوں نےمعاشرے سے ناانصافی اورصنفی تشدد
کے خاتمے کے لئے مکمل حمایت کی یقین دہانی کرائی۔
شنیلہ روتھ ممبر قومی اسمبلی نے مذہبی
اقلیتوں کی نمائندگی کرتے ہوئے کہا کہ معاشرے
کے کمزور طبقات خاص طور پر خواتین ،بچے، خواجہ سرااور مزہبی اقلیتوں کے
حقوق کے تحفظ کے لئے پولیس اصلاحات ناگزیرہیں۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پولیس
میں تعیناتی کے نظام کو سیاسی مداخلت سے
پاک کرنا حکومت وقت کا نصب العین ہے ۔ انہوں
نے کہا کہ پولیس اصلاحات حکومت کی اولین
ترجیحات میں سے ہے اس لئے جہاں تک ہو سکے گا وہ اس پیغام کو متعلقہ اداروں تک
پہنچائیں گی۔
نصرت بانو سحر عباسی ممبر سندھ
اسمبلی نے “Sindh (Repeal of the Police
Act, 1861 and Revival of the Police Order, 2002) Amendment Bill 2019"
سےبات کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی مداخلت پولیس کے اچھے طریقے سے کام میں سب سے
بڑی رکاوٹ ہے۔ انہوں نے صوبائی حکومت کے اس بل کے پاس کرانے کے عمل کو شدید تنقید
کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن پارٹیوں کو اس بل پر بحث کرنے کا موقعہ ہی
نہیں دیا گیا۔ کےحوالے
فیاض احمد خا ن طوروریٹائرڈ آ ئی جی نے پولیس اصلاحات کے حوالے پیش آنے والے مسائل پر بات کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت ضرورت اس امر کی ہے کہ پورے ملک میں پولیس کے لئے یکساں قانون متعارف کرایا جائے ۔ پولیس بجٹ کا نوے فیصد سے زائد تنخواہوں کی مد میں خرچ ہو جاتا ہے جس کی وجہ سے پولیس اسٹیشن تک بہت کم بجٹ پہنچتا ہے ۔ پولیس آرڈر 2002 ایک وفاقی قانون ہے اور آئین کی رو سے صوبے اس سے متصادم کوئی نیا قانون نہیں بنا سکتے۔ انہوں نے وفاقی دارلحکومت میں پولیس اصلاحات کے لیے سول سوسایٹی، میڈیا ، پولیس اور سیاستدانوں کے باہمی تعاون پر زور دیا۔ سپریم کورٹ کے حکم سے بننے والی پولیس اصلاحات کمیٹی نے گراں قدر خدمات سرانجام دی ہیں ۔ پاکستان فورم فور ڈیموکریٹک پولیسنگ (PFDP) سماجی حقوق کے لئے کام کرنے والے اداروں، خواجہ سرا کمیونٹی، مذہبی اقلیتوں ، میڈیا اور تعلیمی اداروں کے نما ئندوں پر مشتمل پولیس ریفارمزکے لئے بنایا گیاایک نیٹ ورک ہے جو کہ پولیس اصلاحات کے لئے کام کررہا ہے۔ اس وقت پاکستان فورم فور ڈیموکریٹک پولیسنگ سندھ، پنجاب، خیبر پختونخواہ، وفاقی دارالحکومت کے علاوہ بلوچستان میں بھی کام کر رہاہے۔

سول سوسائٹی کا چارٹر
برائے ر پولیس اصلاحات مندرجہ ذیل نکات پر
مشتمل ہے:
پولیس اسٹیشن کو
بااختیار بنایا جائے۔ پولیس اسٹیشن کو بااختیار بنانے کے لئے ضروری ہے کہ پولیس اسٹیشن
کے مالی اور انسانی وسائل میں اضافہ کیا جائے۔ اس کے علاوہ پولیس میں بھرتیوں، تبادلوں،
تفتیش اور ترقیوں کے حوالے سے بیرونی دباؤ سے آزاد کیا جائے۔ پولیس میں سیاسی
مداخلت کاخا تمہ کیا جائے۔ پولیس میں اندرونی اور بیرونی احتساب کے عمل کوپبلک
سیفٹی کمیشن برائے عوامی تحفظ اور شکایات کمیشن کے ذریعے موئژ بنایا جائے۔ تفتیشی عمل
کے معیار اور بجٹ کو بڑھایا جائے۔ بچوں،خواتین، معزور افراد، مذہبی اقلیتوں اور معاشرے
کے کمزور طبقات کی ضروریات کو خصوصی توجہ دی جائے۔ پولیس اور عوام کے درمیان فاصلوں
کو کم کرنے کے لئے بھی اقدامات کئے جائیں۔
حکومتی ترجمان نے وفاقی دارلحکومت میں نئے پولیس قانون کو متعارف کرانے کے حوالے سے پیش آنے والے مسائل اور ان کے سدباب کے لئے لائحہ عمل پر حاضرین کو آگاہ کیا۔اس حوالے سے مزید بات کرتے ہوئےممبر قومی اسمبلی شگفتہ جمانی نے اپنے تعاون کا یقین دلایا۔ انہوں نے کہا کہ پولیس کے لئے مختص بجٹ انتہائی قلیل ہے لہذا اس میں اضافہ وقت کی اہم ضرورت ہے۔ خواجہ سرا کمیونٹی کو یقین دہانی کرائی کہ ان کے تحفط کے لئے پاس ہونے والے قانون سے متعلق ان کے تحفظات کو انسانی حقوق کی وزارت تک پہنچائیں گی۔ مزید بات کرتے ہوئے انہوں نےکہا کہ خواتین ،بچوں، خواجہ سرااور مزہبی اقلیتوں کے کے خلاف ہونے والے تشدد کےبڑھتے ہوئے واقعات کی روک تھام کے لئے پولیس اصلاحات ناگزیر ہیں۔ ہم حکومت سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لئے پو لیس اصلاحات کو یقینی بنائیں ۔پاکستان فورم فور ڈیموکریٹک پولیسنگ کے نما ئندوں نے حکومتی ترجمان کے سامنے سول سوسائٹی کا چارٹر برائے ر پولیس اصلاحات پیش کیااور اس بات پر زور دیا کہ وہ پولیس اصلاحات کے حوالے سے اپنے منشور پر عمل در آمد کرتے ہوئے وفاقی دارلحکومت میں پولیس اصلاحات کے لئے اپنا کردار ادا کریں تاکہ صنفی تشدد کے واقعات کی روک تھام کے لئے عملی اقدامات کئے جا سکیں۔صنفی تشدد کے خاتمے اور پولیس اصلاحات کے لئے کام کرنے والی غیر سرکاری تنظیم روزن کے سینئیر مینیجر سیدصفی پیرزادہ نے اس حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی دارلحکومت میں پولیس اب تک158 سال پرانےانگریزوں کے بنائےہوئے1861 ء کے قانون کے تحت ہی اپنے فرائض سرانجام دے رہی ہےجبکہ دور حاضر کے تقاضوکےمدنظر ر پولیس اصلاحات ناگزیر ہیں جیسا کہ دنیا بھر میں جمہوری بنیادوں پر استوار کمیونٹی پولیسنگ کوہی بہترین ماڈل سمجھا جاتا ہے۔
