ایڈوانس ٹیکس سے کاشتکاروں کو کوئی نقصان نہیں پہنچے گا، کاشتکاران صوابی
June 22, 2019 at 3:32 pm,
No comments
رپورٹ: نیازبین خبریال
اسلام آباد، 19جون، 2019: خیبر پختونخوا سے تعلق رکھنے والے تمباکو کے کاشتکاروں نے، بدھ کے دن، ایک وضاحتی بیان میں کہا کہ با اثر کاشتکار غلط انداز میں یہ دعویٰ کر رہے ہیں کے تمباکو پر ایڈوانس ٹیکس سے اُن پر بوجھ پڑے گا ۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ حکومت کی جانب سے بنائے گئے قوانین میں کاشتکاروں کے حقوق کا تحفظ کیا گیا ہے اور غیر قانونی سگریٹس بنانے والے مقامی عناصر حقیقی کاشتکاروں کے روزگار کو نقصان پہنچا رہے ہیں اور اُسے ایک سیاسی کھیل بنا رہے ہیں ۔
خیبر پختونخوا سے تعلق رکھنے والے تمباکو کے کاشتکاروں کے ایک گروپ نے نیشنل پریس کلب میں ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ کاشتکاروں کی یہ نمائندہ تنظی میں غیر قانونی سگریٹس تیار کرنے والے مقامی عناصرکے اثر میں ہیں جن کے سیاسی عزائم ہیں اورانہیں اس کام کے لیے اُکسایا
گیا ہے ۔
انہوں نے مزید کہا کہ کاشتکاروں کی تنظیموں کو حکومت پر دباوَ ڈالنے کی خاطراستعمال کیا جا رہا ہے تاکہ اسے ان درست اقدمات کو واپس لینے پر مجبور کیا جا سکے اگرچہ یہ ٹیکس غیر قانونی تجارت کے خاتمے اور طویل عرصے کے دوران تمباکو کی مسلسل پیداوار کے لیے مدد فراہم کرنے کی غرض سے متعارف کرایا گیا ہے ۔
جن کاشتکاروں نے 300 روپے فی کلو گرام کے حساب سے ایڈوانس ٹیکس کے خاتمے کے لیے احتجاج کیا تھا، اُن کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کچھ کاشتکار غلط دعویٰ کر ر ہے ہیں کہ اِس طرح اُن کا استحصال کیا جائے گا کیوں کہ’ایڈجسٹیبل ایکسائز ڈیوٹی(adjustable excise duty)‘کی وجہ سے تمباکو کی طلب میں کمی ہو جائے گی اور کاشتکاروں کی فصل فروخت نہیں ہو سکے گی ۔ انہوں نے مزید کہا کہ’’فی الحقیقت یہ تصور غلط ہے کیوں کہ پاکستان ٹوبیکو بورڈآرڈیننس 1968ء کی دفعہ 20;65;کاشتکاروں کو مکمل تحفظ فراہم کرتی ہے اور تمباکو کمپنیوں کے لیے یہ بات لازم قرار دیتی ہے کہ وہ غیر فروخت شدہ فاضل تمباکو بھی کاشتکاروں سے خرید لیں ۔ ‘‘
انہوں نے ایڈوانس ٹیکس کے اثرات کی مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ کاشتکار اس با ت کا غلط دعویٰ کر رہے ہیں کہ اِس طرح اُن کا استحصال کیا جائے گا اور ’ایڈجسٹیبل ایکسائز ڈیوٹی‘ کی وجہ سے ان کی فصل کے لیے کم قیمت کی پیشکش کی جائے گی ۔
انہوں نے مزید کہا کہ’’یہ غلط بیانی ہے کیوں کہ ہر سال کم از کم علامتی قیمت (;77;inimum ;73;ndicative ;80;rice;59; ;777380;) کا تعین وزارت تجارت کرتی ہے اور اس موقع پر کاشتکاروں کی بھی بھرپور نمائندگی ہوتی ہے ۔ یہ کم از کم قیمت بھی تمباکو کی فی کلو گرام پر ہوتی ہے جو تمباکو کے کاشتکاروں کو پیش کی جاتی ہے ۔ کم از کم قیمت سے نیچے کی جانے والی کوئی بھی خریداری غیر قانونی اور پاکستان ٹوبیکو بورڈ کے قوانین کے تحت ممنوع ہے ۔ ‘‘
انہوں نے برآمد کے حوالے سے ایک اور غلط بیانی کی بھی وضاحت کی ۔ انہوں نے کہا کہ فی الحقیقت تمباکو کا بہت معمولی حصہ پاکستان سے برآمد کیا جاتا ہے اور یہ پہلے ہی فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی ;838279; 1149 of 2018کے تحت ٹیکس سے مستثنیٰ ہے ۔ لہٰذا ایک مرتبہ پھر غیرقانونی طور پر سگریٹ بنانے والوں کی جانب سے غلط بیانی ہے ۔
کاشتکاروں کو گمراہ کیا جا رہا ہے اور اِس مرحلہ پر غیرقانونی سگریٹس بنانے والوں کی جانب سے اُنہیں استعمال کیا جارہا ہے کیوں کہ یہ نفاذ نہ صرف اُن کو پروسیس کیے ہوئے پتوں پر ایڈجسٹیبل ٹیکس کی ادائیگی پر مجبور کرتا ہے بلکہ ایف بی آر کو بھی تمام سگریٹ تیار کنندگان کی جانب سے پتوں کی خریداری کے بارے میں ڈیٹا مہیا کرتا ہے ۔ یہ ایڈوانس ٹیکس ہے اور ایڈجسٹیبل ہے اور اِس کا اطلاق سگریٹ بنانے والوں پر ہوتا ہے اور یہ کسی بھی کاشتکار کو قطعاًنقصان نہیں پہنچاتا ہے اگرچہ غیرقانونی سگریٹس بنانے والے والے خیبر پختونخوا کے کاشتکاروں کو اپنے فائدے کے لیے گمراہ کر رہے ہیں ۔