خیبر پختون خواہ کے کاشتکاروں اور صنعتی مزدور تنظیموں کا ٹیکس کے خلاف اہم پریس کانفرنس
June 18, 2019 at 1:49 pm,
No comments
رپورٹ: نیازبین خبریال
خیبر پختون خواہ کے کاشتکاروں اور صنعتی مزدور تنظیموں کے عہدیدار مورخہ 17 جون 2019 کو نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں
پریس کانفرنس کیا ۔ ملٹی نیشنل کمپنیوں کی ناپاک کوششوں سے حکومت نے کاشتکاروں کے تمباکو پر300 روپے فی کلو گرام تمباکو ٹیکس لگایا گیا ۔ پریس کانفرس میں محنت کش لیبر فیڈریشن خیبر پختون خواہ ، کسان بورڈ پاکستان، سرحد ایگریکلچرل اینڈرورل ڈیولپمنٹ ارگنائزیشن (رجسٹرڈ) (;8365826879;) اور انجمن تحفظ کاشتکاران تنظیموں کے عہدیداروں نے شرکت کی ۔ جس میں مطالبہ کیا کہ وزیر خزانہ جناب عماد اظہر نے کاشتکار تنظیموں اور صنعتی مزدوروں کے ساتھ ;706682; افس اسلام آباد میں 29 مئی 2019 کو میٹنگ کرکے وعدہ کیاگیا تھا کہ بجٹ 2020-2019 میں تمباکو کاشتکاروں پر300 روپے فی کلوگرام کوئی ٹیکس نہیں لگائےں گے نیا ٹیکس سیگریٹ پر لگائیں گے لیکن حکومت کی طرف سے وعدے کے باوجود کاشتکاروں کے تمباکو پر 300 روپے فی کلوگرام ٹیکس لگایا گیا ۔ ٹیکس سے کاشتکاروں اور صنعتی مزدوروں کا معاشی قتل عام ہو جائے گا جس سے خیبر پختون خواہ صوبے کے0 113400 کاشتکار اور 15000 صنعتی مزدور متاثر ہو جائےں گے ۔ جوکہ خیبر پختون خواہ کے کاشتکاروں اور صنعتی مزدوروں کے ساتھ انتہائی ظلم ہے ۔
ملٹی نیشنل کمپنیاں کاشتکاروں کوً 36% سود پر قرض کھاد ، تخم اور تمباکو پکنے کے لئے لگڑی دیکر کاشتکاروں پر فروخت کرتا ہے ۔ سودی رقم کے عوض ملٹی نیشنل کمپنیاں کاشتکاروں سے مجبوراً تمباکو خرید لیتا ہے جوکہ جبری مشقت ہے ۔ حکومت پاکستان قوانین کے مطابق یہ سخت جرم ہے ۔ کاشتکار مجبور ہو کر کم قیمت پر تمباکو ان ملٹی نیشنل کمپنیوں کو بیچتا ہے ۔
جناب حاجی عبدالنبی مہمند آف شیرگڑھ صوبائی صدر سرحد ایگریکلچرل اینڈرورل ڈیولپمنٹ ارگنائزیشن (رجسٹرڈ)(;8365826879;)، جناب رضوان اللہ صدر کسان بورڈ پاکستان ، ابراراللہ صدر محنت کش لیبر فیڈریشن خیبر پختون خواہ ، جناب حاجی نعمت شاہ صدر انجمن تحفظ کاشتکاران، جناب حسین آحمد جنرل سیکرٹری (;8365826879;) اور جناب اقبال خان صدر تمباکو ڈیلر ایسوسی ایشن نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ دہشت گردی کا مارا ہوا صوبہ خیبر پختون خواہ پہلے سے معاشی بہران میں ہے اور بے روزگاری عام ہے اب ہمارے پاس صرف زراعت باقی ہے جس میں تمباکو کیش فصل ہے اگر حکومت نے کاشتکاروں سے یہ بھی چھینا تو اس سے تقریباً 1145000 محنت کشوں کی معاشی موت ہو جائے گی ۔ جس کے لئے ہم تیار نہیں ہم تمام کاشتکار مزاہمت کریں گے اپنے بچوں کی مستقبل کے لئے کیوں کہ تمباکو فصل کی وجہ سے ہمار ے بچے سکولوں میں پڑھتے ہیں ، ہ میں علاج معالجے کی سہولت اس تمباکو سے حاصل ہے، ہمارے بچوں کی شادیاں اس تمباکو سیزن میں ہوتی ہیں ، ہم حج و عمرے کے لئے سیزن ختم ہونے کے بعد جاتے ہیں یہاں تک کہ ہماری زندگی کا دارومدار اس تمباکو فصل سے ہے کیوں کہ تمباکو واحد کیش فصل ہے اور اس کی قیمت کا تعین پہلے سے طے شدہ ہوا ہوتا ہے ۔
ملٹی نیشنل کمپنیوں کی پالیسیوں کی وجہ سے پچھلے سال ملک کو 294 ملین روپے نقصان ہوا اور تقریباً ۰۴۸ٹیکنکل ورکرز بے روزگار ہو گئے ۔ اسی طرح چار (۴) سالوں میں تمباکو پیداوار140 ملین کلو گرام سے کم ہو کر 70 ملین کلوگرام ہو گیا جو کہ 50% کم ہوا ۔ تمباکو انڈسٹری میں ملٹی نیشنل کمپنینوں کی اجارہ داری ہے ۔ ملکی صنعت کاروں کو ختم کرنے کی کوششیں جاری ہیں جس میں ملک کی بیروکریسی ملوث ہے اور ملکی صنعتکاروں کی صنعت ختم کرکے بیرونی صنعت کاروں کے لئے راہیں ہموار کی جا رہی ہے ۔
اس تمباکو فصل سے ہماری ملک کی معیشت وابسطہ ہے ہم پہلے سے اس تمباکو کی فصل سے ہر سال اربوں روپے ٹیکس حکومت کو ادا کررہے ہیں لیکن اب حکومت میں بیٹھے ہوئے کرپٹ بیروکیٹ ملٹی نیشنل کمپنیوں سے رشوت لیکر تمباکو جسے کیش فصل کو حتم کرکے ملک میں معاشی بہران پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور موجودہ حکومت کے لئے مزید مشکلات پیدا کی جارہی ہیں جس کے لئے ہم کاشتکار اور صنعتی مزدور بلکل تیار نہیں ہے ۔
ہم تمام عہدیدار حکومت پاکستان سے اپیل کرتے ہیں کہ ملٹی نیشنل کمپنیوں نے ہمارے ملک کی جڑھیں کھوکلی کی ہوئی ہے ہمارے ہزاروں ورکرز کو بے روزگار کئے ہوئے ہیں اب کاشتکاروں کی زمینیں بنجر کرنا چاہتے ہیں خدارا حکمرانوں ہوش سے کام لو اور پاکستان پر رحم کرو،بے روزگاری مزید مت بڑھاءو ۔ وزیر اعظم عمران خان صاحب کو خیبر پختون خواہ کے عوام نے ووٹ کے ذریعے وزیر اعظم بنایا کیوں کہ پشتونوں کے ساتھ پہلے بہت ظلم ہوا لیکن تحریک انصاف کی حکومت میں کاشتکاروں اور مزدوروں کے ساتھ انصاف کی بجائے مزید ظلم ہوا ۔ عمران خان صاحب پشتونوں پر رحم کرو ہم بھی انسان ہیں ہمارے بھی بچے ہیں ۔ احساسات رکھتے ہیں ۔ پشتونوں پر رحم کرو ۔
اگر حکومت نے 300 روپے ٹیکس فی کلو گرام واپس نہیں لیا اور فلپ مورس پاکستان لمیٹڈ، پاکستان ٹوبیکو کمپنی ورکرز بحال نہیں کئے تو ہم تمام کاشتکاروں اور مزدوروں نے فیصلہ کیا ہے کہ ہم سڑکوں پر نکل آئیں گے ۔ ہم مزدور اور کاشتکار کسی ;777865; یا ;778065; کو اپنے حلقے آنے نہیں دیں گے اورکاشت کئے ہوئے تمباکو ان ;777865; یا ;778065; کے گھروں کے سامنے جلائےں گے ۔ تحریک انصاف;777865; یا ;778065; آئندہ ووٹ مانگنے کی بھی زہمت نہ کریں ۔ کسی بھی کمپنی کو تمباکو خریداری نہیں کرنے دینگے اور نہ سیگریٹ بنانے دیں